عید کی رات، انعام کی رات

جس طرح رمضان المبارک کے دن اور رات قیمتی ہیں اسی طرح عید کی رات بھی بہت قیمتی ہے اللہ کے نبی ﷺ نے اسے انعام کی رات قرار دیا ہے چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فَإِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْفِطْرِ سُمِّيَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ لَيْلَةَ الْجَائِزَةِ (شعب الایمان: 3421)
”جب عید کی رات ہوتی ہے تو آسمانوں پر اس کا نام لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات رکھا جاتا ہے“۔
انعام کی رات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں عبادت گزاروں کو اللہ کی طرف سے اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے اور اجر و ثواب طے کیا جاتا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جب رمضان کی آخری رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی روزہ داروں کی بخشش فرما دیتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا وہ رات شب قدر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں بلکہ) دستور یہ ہے کہ جب مزدور کا کام پورا ہو جاتا ہے تو اسے مزدوری دے دی جاتی ہے یعنی وہ رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی ہے۔ (سنن بیہقی)

ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ کا فرمان ہے:
مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيْدِ لِلّٰهِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ حِيْنَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ (شعب الایمان: 3438)
”جس نے عیدین کی راتوں میں اللہ کی رضا کے لئے قیام کیا یعنی عبادت کی اس کا دل اس دن زندہ رہے گا جس دن سب کے دل مردہ ہوں گے“۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے (موقوفا) مروی ہے کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی ان میں سے ایک عید کی رات بھی ہے۔ (شعب الایمان: 3440)

شارح مسلم امام نوویؒ فرماتے ہیں: اتَّفَقُوْا عَلَی اسْتِحْبَابِ لَيْلَتَيِ الْعِيْدَيْنِ (شرح نووی علی صحیح المسلم)
”فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ (خاص طور پر) عیدین کی راتوں میں عبادت کرنا مستحب ہے“۔
معلوم ہوا کہ یہ رات بڑی فضیلت والی ہے اس لئے اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور اس رات کو غفلت میں اور فضولیات میں ضائع نہیں کرنا چاہئے لیکن مشاہدہ یہ ہے عام طور پر اس رات کو غفلت میں اور فضولیات میں ضائع کر دیا جاتا ہے۔
پورے مہینے کی محنتوں اور عبادتوں کا بدلہ اسی رات میں ملتا ہے اس رات میں اللہ تعالی سب سے زیادہ سخاوت اور فیاضی کے ساتھ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔
تھوڑا سا سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایک آدمی پورا مہینہ محنت کرے لیکن جب مزدوری لینے کا وقت آئے تو مزدوری نہ لے تو اس کو بے وقوف ہی کہا جائے گا۔ اس لئے کوشش کی جائے کہ اس رات کو بھی ضائع نہ کیا جائے اور اس رات میں کوئی خاص عبادت تو مقرر نہیں ہے کسی بھی طریقے سے عبادت کی جاسکتی ہے کچھ نفل نماز پڑھ لی جائے کچھ تلاوت کر لی جائے کچھ ذکر کر لیا جائے خاص طور پر اللہ تعالی کا شکر، توبہ و استغفار اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گناہوں سے بالکل دور رہا جائے اور سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔