صدقہ فطر

عید سے پہلے ایک اور کام بھی ضروری ہے کہ ہر صاحب نصاب مسلمان پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے نماز عید سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔
صدقہ فطر عید آنے سے پہلے بھی دیا جاسکتا ہے بلکہ پہلے دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے تاکہ کسی بروقت کسی ضرورت مند کے کام آجائے لیکن اگر پہلے ادا نہیں کیا تو عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔
اگر عید سے پہلے ادا نہ کیا ہو تب بھی ذمہ میں لازم رہتا ہے اور بعد میں دینا ضروری ہوتا ہے۔

صدقہ فطر کا نصاب
صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟ اس سلسلہ میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس پر زکوٰۃ فرض ہے اسی پر صدقہ فطر واجب ہے جس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے اس پر صدقہ فطر بھی واجب نہیں ہے ایسا نہیں ہے کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی پر زکوٰۃ تو فرض نہیں ہے لیکن اس پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لئے نصاب کی مقدار تو وہی ہے جو زکوٰۃ کے نصاب کی مقدار ہے البتہ زکوٰۃ کے نصاب اور صدقہ فطر کے نصاب میں دو فرق ہیں:

ایک یہ کہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے مال نصاب پر ایک سال گزرنا ضروری ہوتا ہے اس کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوتا ہے لیکن صدقہ فطر کے مالِ نصاب پر سال گزرنا شرط نہیں ہے بلکہ اگر عید سے ایک دن پہلے بھی کسی کے پاس اتنا مال آگیا جس سے وہ صاحب نصاب بن گیا تو اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہوگا۔

دوسرا فرق یہ ہے زکوٰۃ کے نصاب میں تو چار چیزوں کا حساب دیکھا جاتا ہے: سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت جبکہ صدقہ فطر کے نصاب میں ضرورت سے زائد سامان کا بھی حساب کیا جاتا ہے۔ مثلاً برتنوں میں ایک گھر کی ضرورت کے لئے ایک ڈنر سیٹ کافی ہے لیکن گھر میں اس سے زیادہ برتن موجود ہیں تو وہ ضرورت سے زائد ہیں اسی طرح ایک آدمی کی ضرورت کے لئے چار پانچ سوٹ کافی ہیں لیکن اس کے پاس اس سے بھی زیادہ سوٹ موجود ہیں تو یہ بھی ضرورت سے زائد شمار ہوں گے۔

خلاصہ یہ کہ ایک تو صدقہ فطر کے مال نصاب کے لئے سال گزرنے کی کوئی شرط نہیں ہے دوسرا یہ کہ ضرورت سے زائد سامان بھی مال نصاب میں شمار کیا جائے گا۔

صدقہ فطر کا مستحق

صدقہ فطر کا مستحق بھی وہی ہے جو زکوٰۃ کا مستحق ہے جو زکوٰۃ کا مستحق ہے وہ صدقہ فطر کا بھی مستحق ہے۔

صدقہ فطر کے دو فائدے

حدیث مبارکہ میں صدقہ فطر دینے کے دو فائدے بتائے گئے ہیں:

ایک یہ کہ رمضان المبارک کی عبادات میں جو کمی کوتاہی رہ جاتی ہے صدقہ فطر اس کا کفارہ بن جاتا ہے اور وہ کمی کوتاہی صدقہ فطر کی برکت سے پوری ہو جاتی ہے۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے نادار اور غریب لوگوں کی ضرورت پوری کی جاتی ہے اور ان لوگوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے میں آسانی ہو جاتی ہے اس لئے صدقہ فطر جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اگر پہلے ادا نہیں کر سکے تو کم از کم نماز عید سے پہلے ضرور ادا کر دیں۔

صدقہ فطر کی مقدار

صدقہ فطر چار چیزوں کے حساب سے دیا جا سکتا ہے:
1۔ گندم 2۔ جو 3۔ کھجور 4۔ کشمش

گندم کی مقدار نصف صاع یعنی تقریباً پونے دو سیر جبکہ جو، کھجور اور کشمش کی مقدار ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین سیر ہے صدقہ فطر میں گندم جو وغیرہ کی جنس بھی دی جاسکتی ہے اور ان کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔
کم از کم یہ ہے کہ گندم یا اس کی قیمت کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کیا جائے اور اللہ تعالی نے جس کو زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے اسے چاہئے کہ جو یا کھجور یا کشمش کے حساب سے صدقہ فطر ادا کرے تاکہ اس سے ثواب بھی زیادہ ملے گا اور مستحقین کی ضرورت بھی زیادہ پوری ہوگی۔