شوال کے چھ روزے
رمضان مکمل ہونے کے بعد ایک مسنون عمل یہ بھی ہے کہ شوال میں چھ روزے رکھے جائیں؛
”اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ ایسا ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے ہوں“
اور ایک روایت میں ہے: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ (صحیح المسلم: 1164 كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ)
”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے وہ ایسا ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزے رکھے ہوں“۔
اس کی وضاحت میں علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (سورۃ الانعام: 6/160)
کہ جو ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اللہ تعالی کی طرف سے دس گنا اجر ملے گا۔ تیس روزے رمضان کے ہو گئے۔ کبھی یہ انتیس بن جاتے ہیں کبھی تیس بنتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے اجر پورے تیس کا ہی ملتا ہے تو تیس روزے رمضان کے ہو گئے اور چھ روزے شوال کے کل چھتیس ہوئے اور جب اس کو دس گنا کریں یعنی چھتیس کو دس کے ساتھ ضرب دیں تو پورے 360 بن جاتے ہیں تو جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر چھ شوال کے روزے رکھے تو اس کو 360 روزے یعنی پورا سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔ اور ہر سال اس طرح کرے تو گویا اس کو ہمیشہ پورا سال اور اس طرح پوری زندگی روزے رکھنے کا ثواب ملتا رہے گا۔
اور یہ شوال کے چھ روزے اکٹھے رکھنا ضروری نہیں بلکہ ایک ایک کر کے بھی پورے مہینے میں چھ روزے رکھے جاسکتے ہیں اور اس کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔