جمعۃ الوداع میں دو قسم کے جذبات
جب جمعۃ الوداع کا دن آتا ہے تو دل میں دو قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ہر مسلمان کے دل میں ہونے چاہئیں ایک خوشی اور شکر کا جذبہ کہ اللہ تعالی کا فضل ہوا کہ اس نے ہمیں اپنے فضل سے زندگی میں ایک مرتبہ پھر رمضان کا مہینہ عطا فرمایا اور اس میں روزے رکھنے کی اور تراویح پڑھنے کی اور اعتکاف میں بیٹھنے کی اور صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق نصیب فرمائی اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے اس لئے کہ نہ جانے کتنے اللہ کے بندے ایسے ہیں جو گذشتہ سال تو رمضان المبارک میں ہمارے درمیان موجود تھے لیکن اس سال وہ زیر زمین جاچکے ہیں اب ان سے جا کر پوچھے کہ رمضان کتنا قیمتی ہے اور وہ اس بات کی حسرت اور تمنا کر رہے ہیں کہ کاش ہمیں ایک بار پھر رمضان المبارک کے کچھ لمحات نصیب ہوجائیں جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں زندگی میں ایک بار پھر یہ سعادت عطا فرمادی۔
اور اس لحاظ سے بھی اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا موقع ہے کہ اللہ کے کئی بندے ایسے بھی ہیں جن کو اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کب رمضان آیا اور کب چلا گیا نہ روزہ رکھنے کی فکر، نہ تراویح کی فکر، نہ نماز کی فکر نہ رمضان میں ان کے معمولات میں کوئی تبدیلی آئی نہ سونے جاگنے کھانے پینے کے اوقات میں کوئی فرق آیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ایسے غافل بندوں میں شامل نہیں کیا اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ہمیں روزے رکھنے کی، تراویح پڑھنے کی اور دیگر عبادات کی توفیق عطا فرمائی اگر خدانخواستہ ہم بھی ان غافلوں میں شامل ہوتے تو خدا جانے ہمارا کیا حشر ہوتا اس لئے آج کا دن ایک طرف اس خوشی کا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔